ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بابری مسجد کی زمین مسلمانوں کو واپس کرو کے مطالبے کو لیکر ایس ڈی پی آئی نے تمل ناڈو میں 200مقامات پر کیااحتجاجی مظاہرہ

بابری مسجد کی زمین مسلمانوں کو واپس کرو کے مطالبے کو لیکر ایس ڈی پی آئی نے تمل ناڈو میں 200مقامات پر کیااحتجاجی مظاہرہ

Mon, 07 Dec 2020 17:54:02    S.O. News Service

چنئی  ۷ ڈسمبر (پریس ریلیز/ایس او نیوز)۔ بابری مسجد کی شہادت کی 28ویں برسی  کےموقع پر 6 ڈسمبر بروز اتوار کو  سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) تمل ناڈو شاخہ  نے بابری مسجد کی زمین مسلمانوں کو واپس کرو، بابری مسجد انہدام میں ملوث مجرموں کو سزا دو،عبادت گاہ خصوصی ایکٹ 1991کے نفاذ کو یقینی بناو کے مطالبات کو لیکر ریاست بھر میں 200مقامات پر احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کرکے' یوم بابری مسجد' منایا۔

چنئی میں ہوئے احتجاجی مظاہرے میں ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر دہلان باقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک بہت بڑی ناانصافی اور آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایک اور دھوکہ تھا۔ واضح شواہد کے باوجود کہ مسجد اس سر زمین پر تعمیر کی گئی تھی جہاں کوئی مندر موجود نہیں تھا اور مندر کو مسمار کرنے کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ فیصلے میں بابری مسجد اراضی کو ہندوتوا گروپوں کو دیدیا گیا تھا جو غداری کے سوا کچھ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کا انہدام ایک جرم تھا لیکن اس کو منہدم کرنے والے مجرموں کو سزا کا ذکر نہیں کیا گیا۔ لہذا یہ فیصلہ نامکمل ہے۔

ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر محمد مبارک نے شمالی چنئی میں احتجاجی مظاہرے کی صدارت کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ بابری مسجد کا مسئلہ ایک چھوٹے شہر میں زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر محض ملکیت کا تنازعہ نہیں تھا۔ ایک عظیم  الشان مندر تعمیر کرنے کیلئے مسجد مسمار کردی گئی، جس کا ابھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔اصل تنازعہ تو یہ ہے کہ یہ کس طرح کا ملک ہے اور آئندہ کیسے ہوگا۔یہ ملک کس کا ہے، اور کن شرائط پر اس وسیع و عریض زمین پر مختلف شناختوں اور عقائد کے لوگوں کو ایک ساتھ رہنا چاہئے؟۔ہم گزشتہ 28سالوں سے بابری مسجد کیلئے انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن فرقہ واریت کی نشے میں چورہندوتوا کی ایک انتہا پسند تنظیم فرقہ وارانہ زہر اگل رہی ہے متھورا مسجد کو تباہ کرنے کا دعوی کررہی ہے جو سراسرملک کی سا  لمیت کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ہندوستان نے دیکھا کہ کس طرح تاریخی بابری مسجد کو تباہ کرکے ملک کے ہزاروں بے گناہ لوگوں کی جانیں لی گئیں۔بابری مسجد کے انہدام کو آزاد ہندوستان کی تاریخ کا ایک سیاہ داغ سمجھا جاتا تھا۔ اب ایک بار پھر فرقہ پرست فسطائی قوتیں متھورا اور کاشی مساجدپر تنازعہ کھڑا کرکے ملک کو غیر مستحکم کرنے کیلئے اٹھ کھڑی ہو رہی ہیں۔

ایس ڈی پی آئی انتباہ کرتی ہے کہ ایسی کوششیں نہ صرف ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچائیں گی بلکہ ہمارے ملک کا امیج بھی خراب کردیں گی۔ ایس ڈی پی آئی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے  اور یاد دلاتی ہے کہ وہ عبادت گاہ خصوصی ایکٹ1991کے نفاذکو یقینی بنائیں۔بابری مسجد انہدام کے مجرموں کو سزاکا مطالبہ کرتے ہوئے، بابری مسجد معاملے میں انصاف کے حصول کیلئے ایس ڈی پی آئی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ایس ڈی پی آئی بابری مسجد کی یاد کو آنے والے نسل تک لے جائے گی اور اس ناانصافی کو کبھی  فراموش کرنے نہیں دیگی۔احتجاجی مظاہرے میں کثیر تعداد میں خواتین سمیت پارٹی کارکنان نے شرکت کی۔


Share: